Skip to content

Tawheed is the Entirety of the Deen

Tawheed is the Entirety of the Deen

التوحيد هو جماع الدين

 

Translated
by
Abbas Abu Yahya




Shaykh ul Islaam Ibn Taymeeyah Rahimahullaah said:

 

Allaah Ta’ala said:

(إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ)

《Verily, Allaah forgives not that partners should be set up with him in worship, but He forgives except that (anything else) to whom He pleases 》 [Nisa:48]

‘Tawheed is the entirety of the Deen, which is its foundation, its branches, its core.  It is all goodness.

As for al-Istighfaar (seeking forgiveness), it eliminates all evil.

Therefore, by these two matters, all goodness is acquired, and all evil is eliminated.

Every evil which afflicts the believer is none other than due to his sins.

al-Istighfaar (seeking forgiveness) erases sins and eliminates punishment. Like Allaah Ta’ala said:
وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
《nor will He punish them while they seek Allaah’s Forgiveness》
[Anfal:33]

[Jamia al-Masail 6/274]


التوحيد هو جماع الدين

قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله :

قال تعالى: (إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ)(سورة النساء: 48).

فالتوحيد هو جماع الدين الذي هو أصلُه وفرعُه ولُبُّه، وهو الخير كلُّه، والاستغفارُ يُزيلُ الشرَّ كلَّه، فيحصلُ من هذين جميعُ الخَيْر وزوالُ جميع الشرّ. وكلُّ ما يُصيبُ المؤمنَ من الشرِّ فإنما هو بذنوبه.
والاستغفار يَمحُو الذنوبَ فيُزيلُ العذابَ، كما قال تعالى: (وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (سورة الأنفال: 33))

[جامع المسائل : ٢٧٤/٦]


Urdu

توحید ہی  پورا کا پورا دین ہے

 

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” اللہ تعالٰی نے فرمایا: (إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ)

(سورة النساء: 48)
﴿یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے﴾
پس توحید ہی  پورا کا پورا دین ہے جو  اسکی بنیاد ہونے کے ساتھ ساتھ اسکی شاخ اور مغز و جوہر بھی ہے، اور یہ ہی سارا کا سارا خیر ہے۔ اور استغفار (مغفرت طلب کرنا) سارے شر کو ختم کر دیتا ہے۔ تو اسطرح ان دو ﴿عملوں; توحید اور استغفار﴾ سے سارا خیر حاصل ہوتا ہے اور سارا شر ختم ہوتا ہے۔ اور ایمان والے کو جو بھی شر لاحق ہو تو وہ اسکے گناہوں کی وجہ سے ہے۔ اور استغفار گناہوں کو مٹا کر عذاب کو دور کرتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: (وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (سورة الأنفال: 33)) ﴿ اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں﴾
[جامع المسائل : ٢٧٤/٦]