Bitesize Ramadan 1446 A.H. – 2025
Day 27
Adhering to that which the Companions
of the Prophet –SallAllaahu alayhi wa sallam- were upon
Translated
By
Abbas Abu Yahya
Shaykh Muhammad Nasiruddeen Al-Albaani -Rahimahullaah- said:
‘The best matter with which we can begin our talk is no other than the saying of Allaah Tabaraka wa Ta’ala:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
<< And the first to embrace Islaam of the Muhajiroon (those who migrated from Makkah to Al-Madinah) and the Ansaar (the citizens of Al-Madinah who helped and gave aid to the Muhajiroon) and also those who followed them exactly (in Faith). Allaah is well-pleased with them as they are well-pleased with Him. He has prepared for them Gardens under which rivers flow (Paradise), to dwell therein forever. That is the supreme success.>> [Tawbah : 100]
Indeed, this noble Ayaah is the foundation, from which it is necessary for every Muslim to set out from, to know the Dawah which some of the scholars past and present gave a definition for, by calling it ‘Dawah as-Salafeeyah’. Some of them may call it ‘Dawah Ansaar as-Sunnah al-Muhammdeeyah’ and others call it by the Dawah ‘Ahl-ul-Hadeeth’ and all these names, show and indicate to one meaning.
The Jamaat (organisations) from the Muslims, past and present, did not pay attention to this one meaning or perhaps they paid attention, but they did not give its due right.
This is because many generations have passed by, the people and their hearts have been covered over with rigidity and stagnated upon blind following of Madhabs among the Ahl ul Sunnah, of those who they ascribe to, claiming that they are from the Ahl ul Sunnah wal Jamaah. There was a covering upon all these people from the later generations after the three generations for whom there was a testimony that they were upon goodness.
The covering upon them of rigidity and stagnation of blind following and being religious upon blind following, let alone other than those who did not ascribe to the Madhab of Ahl ul Sunnah wal Jamaah from the other sects which are gathered upon the statement of our Prophet –SallAllaahu alayhi wa sallam- in the well-known Hadeeth:
افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً
“The Jews had split up in to seventy-one sects and the Christians had split up into seventy-two sects, and my nation will split up into seventy-three sects all of whom will be in the fire except one.’
The Companions asked, ‘Which one O Messenger of Allaah?’
He replied:
الْجَمَاعَةُ
‘The Jamaa’aah.”
In another narration:
مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
“What I am upon and my Companions are upon.”
Therefore, this hadeeth is from the clear Ahadeeth which show clear evidence that the Firqaat an-Najeeyah (Saved Sect) is from the seventy-three sects which our Messenger –SallAllaahu alayhi wa sallam- informed about that they will occur in this Ummah.
The information of the Prophet –SallAllaahu alayhi wa sallam- is truthful, because like Allaah Ta’ala said in the Noble Qur’aan:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى () إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى
<< Nor does he speak of (his own) desire.
It is only an Inspiration that is inspired.>> [Najm: 3-4]
The sign of the Firqaat an-Najeeyah is not only similar to what the other Jamaat call to in this time. The sign of this sect is not only that it ascribes to acting upon the Book and the Sunnah, since it is not possible for anyone from the Muslims -even if they are from outside the saved sect- it is not possible for any sect from those sects of the past or present to deny or keep away from this ascription to the Book and the Sunnah, because if they did this, then they would raise a flag that they have exited Islaam.
This is why every Islaamic Jamaah and every Islaamic sect which the Messenger –SallAllaahu alayhi wa sallam- indicated to in the previous Hadeeth, are all united upon one statement which is the ascription to the Book and the Sunnah.
[The Reality of Salafeeyah]
As for those whom we indicated to in the outset of this talk, of the Salafiyeen and others who follow their way, and perhaps they take a different title, so these people differ from all the other Islaamic sects, whereby they ascribe to an additional matter, this other matter is: protection from exiting the Book and the Sunnah in the name of the Book and the Sunnah. It is none other than adhering to that which the Companions of the Prophet –SallAllaahu alayhi wa sallam- were upon, those from the Muhajireen and the Ansaar, and those who followed them and then those who followed after them, they are none other than the generations who are testified to with goodness in the authentic Hadeeth, in fact the Hadeeth which is Mutawatir, whereby the Messenger of Allaah –SallAllaahu alayhi wa sallam- said:
خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ
‘The best of the people are of my generation then those after them.’
[Taken from ‘Usool Dawatu Salafeeyah’ p.11-22]
Arabic Reference
Arabic Book Pdf
Translated for Urdu audiences by the translation team
ستائیسواں دن
اُس طریقے پر قائم اور ثابت قدم رہنا جس پر نبی ﷺ کے صحابہ تھے۔
📃 امام محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سب سے بہترین بات جس سے ہم اپنی گفتگو کا آغاز کر سکتے ہیں، وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کے بغیر کچھ اور نہیں ہوسکتا:
﴿وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَـٰجِرِینَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِینَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَـٰنࣲ رَّضِیَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوا۟ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّـٰتࣲ تَجۡرِی تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَـٰرُ خَـٰلِدِینَ فِیهَاۤ أَبَدࣰاۚ ذَ ٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِیمُ﴾ [التوبة ١٠٠] (ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔)
بے شک یہ عظیم آیت وہ بنیاد ہے، جس سے ہر مسلمان کو آغاز کرنا لازم اور ضروری ہے، تاکہ وہ اُس دعوت کو پہچانے جس کی بعض سابقہ اور موجودہ علمائے کرام نے تعریف بیان کی ہے اور اُسے “دعوتِ سلفیہ” کا نام دیا ہے۔ بعض اسے “دعوتِ أنصار السنۃ المحمدیہ” کہتے ہیں، اور کچھ اسے “دعوتِ اہل الحدیث” کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ تمام نام ایک ہی مفہوم کی نشان دہی کرتے ہیں اور اسی ایک حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
مسلمانوں کے جماعتوں (تنظیموں) نے، خواہ وہ ماضی کی ہوں یا حال کی، اس ایک حقیقت پر توجہ نہیں دی، یا شاید توجہ دی بھی، لیکن اسے اس کا حق نہیں دیا۔
یہ اس لیے ہے کہ کئی نسلیں اور صدیاں گزر چکی ہیں، اور لوگوں کے دلوں پر اُن مذاہب کی تقلید کی جمودیت چھا گئی ہے جو اہل السنہ میں سے ہیں، اور وہ خود دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اہلِ سنت والجماعت میں سے ہیں۔ ان تمام لوگوں پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جو تین بہترین نسلوں کے بعد کی نسلوں میں شامل ہیں، جن کے بارے میں گواہی دی گئی تھی کہ وہ بھلائی پر قائم تھے۔ ان پر جو پردہ پڑ گیا، وہ تقلید پر جمود اور تقلیدی دینداری کا پردہ ہے، (یہ تو ان لوگوں کا حال تھا جو خود کو اہلِ سنت والجماعت کے مذہب سے منسوب کرتے ہیں)، چہ جائیکہ وہ فرقے جو سرے سے اہلِ سنت والجماعت کے مذہب سے وابستہ ہی نہ ہیں ، جو اس مشہور حدیث میں نبی کریم ﷺ کے فرمان کے تحت جمع ہوتے ہیں:
“یہود اکہتر (71) فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے۔”
صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ (نجات پانے والا) کون سا فرقہ ہوگا؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “وہ جماعت ہے۔”
اور ایک دوسری روایت میں، جو پہلی روایت کی وضاحت کرتی ہے، فرمایا:
“وہ (گروہ) ہے جو اس طریقے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔”
لہٰذا، یہ حدیث ان واضح احادیث میں سے ہے جو اس بات کی کھلی دلیل فراہم کرتی ہیں کہ “فرقہ ناجیہ” ان تہتر (73) فرقوں میں سے ہے جن کے بارے میں ہمارے رسول کریم ﷺ نے خبر دی تھی کہ وہ اس امت میں ظاہر ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ کی یہ خبر بالکل سچی ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ ویسے ہی ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ان کے بارے میں فرمایا:
﴿وَمَا یَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰۤ، إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡیࣱ یُوحَىٰ۔﴾ [النجم ۳-٤] (ترجمہ: اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں، وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔)
فرقہ ناجیہ کی علامت محض وہی نہیں جس کا دعوٰی اس دور کی کئی دیگر جماعتیں کرتی ہیں۔
اس فرقے کی نشانی صرف یہی نہیں کہ وہ کتاب و سنت پر عمل کرنے کا دعوٰی کرتا ہے، کیونکہ یہ دعویٰ تو کسی بھی مسلمان کے لیے—خواہ وہ ان فرقوں میں سے ہو جو فرقہ ناجیہ(نجات پانے والے فرقے) سے باہر ہیں—چھوڑنا ممکن نہیں۔ قدیم ہو یا جدید، ان میں سے کوئی بھی فرقہ ایسا نہیں جو کتاب و سنت سے وابستگی کے دعوے سے دستبردار ہو سکے۔ کیونکہ اگر کسی فرقے نے ایسا کیا، تو گویا اس نے اسلام سے نکلنے کا جھنڈا بلند کیا(اس کا مطلب یہ ہوگا کہ گویا اس نے خود اسلام سے نکلنے کا اعلان کر دیا)۔ اسی وجہ سے تمام اسلامی جماعتیں اور تمام اسلامی فرقے، جن کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا جن کی طرف پچھلی حدیث میں اشارہ کیا، سب ایک بات پر متفق ہیں، اور وہ ہے کتاب و سنت سے وابستگی کا دعویٰ۔
📜 سلفیت کی حقیقت:
جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کی طرف ہم نے گفتگو کے آغاز میں اشارہ کیا، یعنی سلفیّون اور وہ جو ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہیں، خواہ انکو کسی اور نام سے جانا اور پکارا جائے، تو یہ لوگ دیگر تمام اسلامی فرقوں سے ایک نمایاں فرق رکھتے ہیں۔
یہ فرق ایک اضافی نسبت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ کتاب و سنت پر تمسک کے نام پر، کتاب و سنت سے باہر جانے سے بچاؤ۔ اور یہ بچاو درحقیقت اس بات کو لازم پکڑنا ہے جس پر نبی کریم ﷺ کے مہاجرین اور انصار صحابہ رضی اللہ عنہم، اور وہ تابعین اور تبع تابعین تھے جنہوں نے ان کی اتباع اور پیروی کی۔ یہ وہی نسلیں اور زمانے ہیں جن کے بارے میں صحیح حدیث بلکہ متواتر حدیث میں بھلائی اور فضیلت کی گواہی دی گئی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں۔”
[ماخوذ از: “أصول دعوة السلفیہ”، ص 11-22]
Also See: