Skip to content

The Reality of Tawheed
حقيقة التَّوحيد

Translated
By
Abbas Abu Yahya




Shaykh ul Islaam Ibn Taymeeyah Rahimahullaah said:

‘Indeed the reality of Tawheed is that we worship Allaah Alone,
▫️so no one is made Dua to except Him,
▫️No one is totally feared except Him,
▫️No one is to have Taqwa of except Him,
▫️No one is totally relied upon except Him,
▫️The Deen is not for anyone except Allaah……

Not anyone from the creation, That we do not take the Angels and Prophets as deities to be worshipped,
So what about the Imams, shaykhs, scholars, kings and other than them?!

The Messenger ﷺ is the one who conveyed the commands and prohibitions from Allaah.

Absolute obedience is not given to the creation, only to Allaah.

Therefore, if the Imam or shaykh is placed as if he is a deity, That he is called upon even though he is not present, Or after his death, And aid is sought from him, And your needs are requested from him, Whereas obedience is given to a person who is present, So if a Imam or Shaykh orders with whatever he wants,  or prohibits with whatever he wants, therefore, obedience to a deceased is resembling him to Allaah Ta’ala and if obedience is to a living individual then he is resembling the Messenger of Allaah sallAllaahu alayhi wa sallam, And this exits/goes against the reality of Islaam of which the origin is the testimony that there is none worthy of worship except Allaah and the testimony that Muhammad is the Messenger of Allaah.’

[Minhaj as-Sunnah an-Nabaweeyah 3/490]



حقيقة التَّوحيد
▪ قالَ ابن تَيْميَّة رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى .
فإنَّ حقيقةَ التَّوحيد :
◽ أنْ نعبدَ اللهَ وحدهُ ،
◽ فلا يُدعى إلاَّ هو،
◽ ولا يُخشى إلاَّ هو ،
◽ ولا يُتَّقى إلاَّ هو،
◽ ولا يُتوكَّل إلاَّ عليه ،
◽ ولا يكون الدِّين إلاَّ له ،
▫ لا لأحدٍ مِنَ الخلق ،
▫ وأنْ لا نتَّخذ الملائكة والنَّبيِّين أربابًا،
▫ فكيف بالأئمَّة ، والشُّيوخ ، والعُلماء ،
▫ والمُلوك، وغيرهم؟!
والرَّسول ﷺ هُو المبلِّغ عَنِ الله أمره ونهيه ، فلا يُطاع مخلوق طاعة مطلقة إلاَّ هو ، فإذا جعل الإمام والشَّيخ كأنَّهُ إلهٌ ،
▫ يُدعى مع مغيبة ،
▫ وبعد موته ،
▫ ويُستغاث به ،
▫ ويُطلب منه الحوائج ،
والطَّاعة إنَّما هي لشخصٍ حاضرٍ، يأمر بما يُريد، وينهى عمَّا يُريد ، كان الميِّت مشبّهًا بالله تَعَالَى ، والحيّ مشبّهًا برسُول اللهِ ﷺ ، فيخرجون عَنْ حقيقة الإسلام الَّذي أصله ، شهادة أنْ لا إلهَ إلاَّ الله، وشهادة أنَّ محمَّدًا رسُول الله».اهـ.
منهاج السُّنَّة النَّبويَّة لابن

تَيْميَّة:(3/490)



توحید کی حقیقت
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ

اللہ تعالی فرماتے ہیں:
بے شک توحید کی حقیقت یہ ہے کہ:
◽ہم صرف اللہ کی عبادت کریں
◽پس اُس کے سوا کسی سے دعا نہیں مانگی جاتی
◽اور اسکے بغیر کسی سے نہیں ڈرا جاتا
◽اور اسکے سوا کسی کا تقوی نہیں رکھا جاتا
◽اور اسکے سوا کسی پر توکل نہیں رکھا جاتا
◽اور اسکے بغیر کسی کا دین (قابل قبول) نہیں
◽مخلوق میں سے کسی ایک کا بھی نہیں
◽اور یہ کہ ہم فرشتوں اور انبیاء کو رب نہیں مانتے
◽تو ائمہ، مشائخ، علماء، بادشاہ اور دوسروں کی بات ہی نہیں؟!
رسول ﷺ اللہ کے احکامات اور منہیات کو پہنچانے والے ہیں، اس لیے اس کے سوا کسی مخلوق کی مکمل اطاعت نہیں کی جاتی، لہٰذا اگر کسی امام اور شیخ کو معبود بنا دیا جائے۔(اسطرح)
◽کہ اسکی غیر حاضری میں اس سے دعا مانگی جائے
◽یا اسکی موت کے بعد اس سے فریاد کی جائے
◽اور اس سے ضرورتیں مانگیں جائے
اور اطاعت صرف حاضر شخص کی کی جاتی ہے، جو چاہے حکم دے، اور جس سے چاہے منع کر دے، اسطرح  (ایسا) فوت شدہ (امام یا شیخ) الله کے مشابہ اور (ایسا) زندہ (امام یا شیخ) رسول اللہ ﷺ کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ اسطرح (ایسا کرنے والے لوگ) اسلام کی حقیقت سے منحرف ہو جاتے ہیں، جس کی اصل یہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ گواہی  کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
مصدر: منهاج السُّنَّة النَّبويَّة لابن تَيْميَّة:(3/490)